مسلمانوں کے زوال کے اسباب
حکمرانوں سے لیکر عوام تک
‘
اللہ اکبر کا صدا تو روزانہ سنتے ہے مگر
سچے دل سے اللہ کا اطاعت نہی کرتے ہے
حضرت محمد صلی علیہ و سلم کو تو رحمت اللعالمین مانتے ہے مگر
اس کی پیروی نہی کرتے ہے
حضرت عمر فارق علیہ سلام کی عدالت کو تو جانتے ہے مگر
غیروں کی عدالتی نظام پر یقین رکھتے ہے
حضرت علی علیہ سلام کی سجاعت کو تو جانتے ہے مگر
کفار کے سامنے بزدل بنتے ہے
حضرت ابو بکر صدیق علیہ سلام کی صداقت کو تو جانتے ہے مگر
ہر اپنے اور غیر کے ساتھ دھوکے کی روش رکھتے ہے
حضرت عثمان غنی علیہ سلام کی سخاوت کو تو جانتے ہےمگر
ہر خیر کی کام میں کنجوسی کرتے ہے
علماء کو تو وارث الانبياء تو مانتے ہے مگر
عزت ڈارمے بازوں اور کنجروں کي کرتےہے
قران کو تو گھر ميں رکھتے ہے مگر
نہ پڑھتے ہے نہ سمجھتے ہے
ورزش دفترکاروبارکے ليے تو جاتے رہتے ہے مگر
گھر کے ساتھ مسجد جانے ميں تھکاوٹ محسوس کرتے ہے
ووٹ تو ديتے ہے مگر
اميدوار کي اسلامي انساني اخلاقي اہليت کو نہي ديکتے
براي اوربےحيائي تو ديکھتے ہے مگر
اس کو روکھنے کي کوشش نہي کرتے ہے
اپنے گھر ميں تو بيٹي بہن ہو تے ہے مگر
دوسروں کي بيٹي اور بہنوں کو غليظ نظروں کو ديکھتےہے
اپنے آپ کو تو مسلمان جانتے ہے مگر
غير مسلم کے لباس اور انداز پر فخر محسوس کرتےہے
اپنے بچوں کي تعليم اور تربيت کي خواہش تو رکھتے ہے مگر
اسکے تعليم اور تربيت مغربي طرز پر کرتے ہے
امن انصاف اور اچھے معاشرے کي حسرت تو رکھتے ہے مگر
اپنا اصلاح اور دوسروں کي اصلاح کي کوشش نہی کرتے ہے
.
مسلمانوں جب تک ہم درج بالا اعمال کي اصلاح کي کوشش
اور حکمرانوں سے ليکر عوام تک اجتماعي اور انفرادي توبہ نہي کرينگے
.
تو قتل و غارت گري ,ڈاکہ زني, بےانصافي, بے راہروي, مہنگائ, عزت کا محفوظ نہ ھونا ,
زلزلے ,سيلاب, نت نئے امراض, رزق کي کمي ,اختلاف و انتشار ,دشمنوں سے مرعوبيت ,اللہ کے عزاب کے صورت ميں ھم پر مسلط رھے گي
.
جب ہم کہتے ہے کہ يا اللہ صورت احوال ديکھ
حکم ھوتا ہے کہ اپنے نامہ اعمال ديکھ
.
اللہ ہم سب کو راہ ھدايت نصيب فرمائيں
.
دوستوں اس کو زيادہ سے زيادہ شئير کريں
.
طالب دعاحاجي محمد صديق اچکزئ
;
We the Muslims are highly responsible for not presenting the Right Image of our Prophet(SAW).Wo RAHMAT-UL-LIL-AALAMEEN thay .And we did not spread HIS MESSAGE around the world…….
bohat achaa ora maqbool jan sahib
مسلمانوں کے زوال کے اسباب
حکمرانوں سے لیکر عوام تک
‘
اللہ اکبر کا صدا تو روزانہ سنتے ہے مگر
سچے دل سے اللہ کا اطاعت نہی کرتے ہے
حضرت محمد صلی علیہ و سلم کو تو رحمت اللعالمین مانتے ہے مگر
اس کی پیروی نہی کرتے ہے
حضرت عمر فارق علیہ سلام کی عدالت کو تو جانتے ہے مگر
غیروں کی عدالتی نظام پر یقین رکھتے ہے
حضرت علی علیہ سلام کی سجاعت کو تو جانتے ہے مگر
کفار کے سامنے بزدل بنتے ہے
حضرت ابو بکر صدیق علیہ سلام کی صداقت کو تو جانتے ہے مگر
ہر اپنے اور غیر کے ساتھ دھوکے کی روش رکھتے ہے
حضرت عثمان غنی علیہ سلام کی سخاوت کو تو جانتے ہےمگر
ہر خیر کی کام میں کنجوسی کرتے ہے
علماء کو تو وارث الانبياء تو مانتے ہے مگر
عزت ڈارمے بازوں اور کنجروں کي کرتےہے
قران کو تو گھر ميں رکھتے ہے مگر
نہ پڑھتے ہے نہ سمجھتے ہے
ورزش دفترکاروبارکے ليے تو جاتے رہتے ہے مگر
گھر کے ساتھ مسجد جانے ميں تھکاوٹ محسوس کرتے ہے
ووٹ تو ديتے ہے مگر
اميدوار کي اسلامي انساني اخلاقي اہليت کو نہي ديکتے
براي اوربےحيائي تو ديکھتے ہے مگر
اس کو روکھنے کي کوشش نہي کرتے ہے
اپنے گھر ميں تو بيٹي بہن ہو تے ہے مگر
دوسروں کي بيٹي اور بہنوں کو غليظ نظروں کو ديکھتےہے
اپنے آپ کو تو مسلمان جانتے ہے مگر
غير مسلم کے لباس اور انداز پر فخر محسوس کرتےہے
اپنے بچوں کي تعليم اور تربيت کي خواہش تو رکھتے ہے مگر
اسکے تعليم اور تربيت مغربي طرز پر کرتے ہے
امن انصاف اور اچھے معاشرے کي حسرت تو رکھتے ہے مگر
اپنا اصلاح اور دوسروں کي اصلاح کي کوشش نہی کرتے ہے
.
مسلمانوں جب تک ہم درج بالا اعمال کي اصلاح کي کوشش
اور حکمرانوں سے ليکر عوام تک اجتماعي اور انفرادي توبہ نہي کرينگے
.
تو قتل و غارت گري ,ڈاکہ زني, بےانصافي, بے راہروي, مہنگائ, عزت کا محفوظ نہ ھونا ,
زلزلے ,سيلاب, نت نئے امراض, رزق کي کمي ,اختلاف و انتشار ,دشمنوں سے مرعوبيت ,اللہ کے عزاب کے صورت ميں ھم پر مسلط رھے گي
.
جب ہم کہتے ہے کہ يا اللہ صورت احوال ديکھ
حکم ھوتا ہے کہ اپنے نامہ اعمال ديکھ
.
اللہ ہم سب کو راہ ھدايت نصيب فرمائيں
.
دوستوں اس کو زيادہ سے زيادہ شئير کريں
.
طالب دعاحاجي محمد صديق اچکزئ
;
We the Muslims are highly responsible for not presenting the Right Image of our Prophet(SAW).Wo RAHMAT-UL-LIL-AALAMEEN thay .And we did not spread HIS MESSAGE around the world…….